
By BY CHARLES M. BLOW from NYT Opinion https://ift.tt/DFzcqyA


وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے عمران خان کو حکومت گرفتار کرنے کا مںصوبہ بنارہی ہے۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ حکمران عمران خان کی عوامی مقبولیت سے گھبرا گئے ہیں۔ حکومت نے یہ حرکت کی تو ملک کے سیاسی استحکام کو تہہ وبالاکر دیںگے۔
سابق وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کل عمران خان نےایک اہم اجلاس اسلام آبادمیں طلب کیا ہے، کارکنان تیاررہیں اور پارٹی کی کال کا انتظارکریں۔
شاہ محمودقریشی کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرانسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں خاموش ہیں۔
دوسری جانب عمران خان کی رہائشگاہ بنی گالہ کی طرف جانے والے راستے کی سیکورٹی سخت کر دی گئی۔ پولیس نے خار دار تار لگا کر راستہ بند کرکے غیر متعلقہ افراد کو بنی گالہ جانے پر روک دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بھی بنی گالہ کے علاقے میں عمران خان چوک پہنچ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ آج اسلام آباد پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف سرکاری مدعیت میں دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج اور اعلیٰ پولیس افسران کو دھمکیوں کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف مجسٹریٹ اسلام آباد علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق عمران خان نے تقریر میں پولیس افسران اور جج کو دھمکیاں دیں اور ڈرایا، عمران خان کی تقریر کا مقصد عدلیہ اوراعلیٰ حکام کادہشت زدہ کرنا تھا۔

سندھ اور بلوچستان میں بارشوں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال امداد کی عدم فراہمی کے باعث مزید ابتر ہوگئی ہے۔
حالیہ مون سون سیزن نے سندھ ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں جہاں بارشوں کے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں وہیں لاکھوں لوگوں کی زندگی مزید دشوار ہوگئی ہے۔
بلوچستان:
بلوچستان میں بارش و سیلاب سے مزید نو افراد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 225 ہوگئی۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشیں جاری ہیں، خضدار، نوشکی، کوہلو، قلات، مستونگ میں بارشوں کے باعث کئی کچے مکانات مہندم ہوگئے، کوئٹہ میں بارش سے سڑکیں تالاب میں بدل گئیں۔
مغربی بائی پاس میں واقع میں کرخساں ڈیم پانی سے بھر گیا، اسپیل ویز کھولنے سے کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاون میں پانی داخل ہوگیا، سیلابی پانی سے پشتون آباد میں کئی مکانات مہندم ہوگئے۔
کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے شہر کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔
لورالائی میں پانچ بچے کٹوی ندی میں بہہ گئے ضلعی انتظامیہ کے مطابق دو کو بچا لیا گیا تین کی تلاش جاری ہے۔
نصیر آباد میں پنہور پل کے قریب شگاف پڑنے سے بڑا سیلابی پانی پٹ فیڈر کینال میں داخل ہوگیا۔
قلات کے علاقے منگچر میں بھی ڈیم ٹوٹنے سے پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہوگیا، دکی میں بھی سیلابی پانی کئی گھروں کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔
کوہلو کا کوئٹہ سے زمینی رابطہ آج آٹھویں روز بھی منقطع ہے جب کہ قلات میں شدید بارشوں سے ڈھلو ڈیم ٹوٹ گیا ہے۔ لورالائی میں پانچ بچے ندی میں بہہ گئے۔
نصیر آباد میں پنہور پل کے قریب شگاف پڑنے سے بڑا سیلابی پانی پٹ فیڈر کینال میں داخل ہو گیا جس سے قریبی آبادیوں کو نقصان کا خدشہ ہے۔
جانب زدہ علاقوں میں متاثرین تاحال امداد کے منتظر ہیں، بلوچستان حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لئے امداد فنڈ قائم کر دیا گیا ، فنڈ میں اندرون اور بیرون ملک سے عطیات جمع کروائے جا سکیں گے۔
شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بلوچستان کادیگر صوبوں سےریل رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
شدید بارش کے باعث کوئٹہ جانے والے متعدد ريلوے ٹريکس پانی ميں ڈوب گئے ہیں، جس کے بعد لاہور سے کوئٹہ جانے والی ٹرينيں سکھر تک محدود کردی گئی ہیں۔ جب کہ کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس کول پور اسٹیشن سے واپس کردی گئی ہے۔
پنجاب بلوچستان شاہراہ چوتھے روز بھی بند
فورٹ منروکے پہاڑی سلسلے راکھی گاج کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پنجاب بلوچستان شاہرا ہ آج چوتھے روز بھی بند ہے۔
بین الصوبائی شاہراہ کی بندش سے سیکڑوں مال بردار گاڑیاں اور مسافر پھنس گئے ہیں۔
زمینی رابطے کی بحالی کے لیے بھاری مشینری ملبہ ہٹانے میں مصروف ہے ۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق قومی شاہراہ این 25 لنڈا پل اور ایم 8 وانگوں ہلز پر مکمل بند ہے، این 50 ژوب دھناسر اور این 70 فورٹ منرو پر ٹریفک کیلئے بند ہے جب کہ قراقرم ہائی وےاچھارنالہ کےمقام پر ہلکی ٹریفک کیلئے بحال ہے۔
سندھ:
رواں ہفتے آنے والا مون سون بارشوں سندھ کے کئی اضلاع میں تباہی لایا ہے۔ حیدر آباد، دادوم لاڑکانہ خیر پور، جیکب آباد اور سکھر کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں کے بعد ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔
صوبے بھر میں پیش آنے والے مختلف حادثات میں خواتین اور بچی سمیت 16 افراد جاں بحق ہوگئے۔
جیکب آباد میں تین روز کے دوران 3 خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ خیرپور میں چھت گرنے سے خاتون اور بچی سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
خیر پور، جیکب آباد، مٹیاری اور بھٹ شاہ میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورت حال سے 500 سے زائد دیہات زیر آب اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
وزیر اعلیٰ مرادعلی شاہ کی زیرصدارت بھٹ شاہ میں اجلاس ہوا جس میں اب تک کی صورت حال اور امدادی کارروائیوں کے حوالے سے غور کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر مٹیاری نے بارشوں سے نقصانات کےحوالے سے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایک لاکھ 52 ہزار 520 ایکڑ پر تیار فصل کا 90 فیصدحصہ تباہ ہوچکا، بارشوں کے سبب 20 ہزار افراد نقل مکانی کرچکے ہیں، ہالا اور سعید آباد میں 73ریلیف کیمپوں میں 7 ہزار 304 متاثرین کو منتقل کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کیمپوں میں موجود متاثرین کو کھانا فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ 300 ملی میٹربارش ہوگی تو نکاسی میں وقت لگےگا،موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر ہمیں نظام کو بہتر کرنا ہوگا۔
ہالا میں امدادی کیمپ کے دورے کے دوران متاثرین نے ریلیف نہ ملنے پر شکایات کے انبار لگادیے۔
وزیر اعلٰی نے یقنی دہانی کرائی کہ صوبائی وزیر آب پاشی بچاؤ بندوں کا دورہ کرکے جائزہ لےرہےہیں، بندوں کی مضبوطی کیلیےکام کرایا جائےگا۔
محکمہ خزانہ سندھ نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے مزید 4کروڑ 60 لاکھ جاری کردیے ہیں، جیکب آباد، شکار پور، کندھ کوٹ کے لئے ایک کروڑ 40 لاکھ جب کہ گھوٹکی کے لئے 40 لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں۔

By Victoria Kim from NYT World https://ift.tt/Cf3tZIK