تیسری شادی کے بعد عامر لیاقت کی بیٹی کا ردعمل


عامرلیاقت حسین نے طوبیٰ انورسے خلع کی خبر منظرعام پرآتے ہی لودھراں سے تعلق رکھنے والی سادات گھرانے کی 18 سالہ لڑکی کے ساتھ اپنی تیسری شادی کا اعلان کردیا۔تاہم عامر لیاقت حسین کی صاحبزادی دعا عامر نے ان کی تیسری شادی پر اپنا رد عمل دیا ہے۔

عامر لیاقت حسین کی جانب سے خود سے 31 سال کم عمر لڑکی سے شادی کی تصدیق کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے دعا عامر سے بھی رد عمل جاننے کی کوشش کی اور سوشل میڈیا پوسٹس میں انہیں بھی مینشن کرکے ان سے سوالات کرنے لگے۔

والد کی تیسری شادی پر لوگوں کے سوالوں پر دعا عامر نے انسٹاگرام اسٹوری میں عوام سے اپیل کی کہ وہ ان سے ان کے خاندان سے متعلق سوال پوچھنا بند کریں، دعا عامر نے لوگوں سے دخواست کی کہ سوشل میڈیا پوسٹس میں انہیں مینشن کرکے ان سے ان کے خاندانی مسائل سے متعلق نہ پوچھا جائے۔

عامر لیاقت کی صاحبزادی نے مزید لکھا کہ انسٹاگرام کا ان کا اکاؤنٹ ان کے آرٹ ورک کے لیے ہے، اسی لیے اگر لوگوں کو ان کا کام پسند نہیں تو وہ انہیں ان فالو کردیں مگر ان سے ذاتی سوالات نہ پوچھے جائیں۔

عامرلیاقت کی تیسری اہلیہ ‘ہانیہ نہیں دانیہ’ ہیں

دعا عامر نے مزید لکھا کہ وہ کسی بھی شخص کے سوال کا جواب انباکس میں نہیں دیں گی اور نہ ہی کسی کو اپنی ذاتی زندگی اور خاندان سے متعلق کوئی وضاحت پیش کریں گی۔

عامر لیاقت حسین کی 2018 میں پہلی اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال سے طلاق کے بعد ان دونوں بچے جن میں بیٹا احمد اور بیٹی دعا اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں۔

دعا عامر نے اپنے والد کی اداکارہ طوبیٰ انور سے دوسری شادی پر بھی رد عمل دیتے ہوئے شادی کو خاندان کا المیہ قرار دیا تھا اور ساتھ ہی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔

دوسری جانب عامر لیاقت نے تیسری شادی پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے ٹوئٹ کی کہ’میری تیسری شادی کیا ہوئی؟ گویا آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگ گئی!!! جلو، بھائی جَلو میں تو پیچھے مڑکر دیکھتا تک نہیں ہوں‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ میاں بیوی کی ایک ساتھ تصویر بس ’سہاگ رات‘ کی نہیں ہوتی، اچھا ویسے ایک بات کہوں، سب کام پر لگ جاؤ، غیبتوں، اندازوں، افواہواں اور بدگمانیوں کے سفر پر گامزن ہوجاؤ، ہم تو گھومنے جارہے ہیں۔



from SAMAA https://ift.tt/Fi9Nal4

No comments:

Post a Comment

Australia’s Social Media Ban for People Under 16 Takes Effect

By Victoria Kim from NYT World https://ift.tt/Cf3tZIK