
By BY MATINA STEVIS-GRIDNEFF AND RICHARD PÉREZ-PEÑA from NYT World https://ift.tt/CAdeGrp
یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف برانڈز کے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک کلو گھی کی قیمت 208 روپے تک اضافے کے بعد 555 روپے ہوگئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز پر مختلف برانڈز کا کوکنگ آئل فی لیٹر 213 روپے تک مہنگا کردیا گیا ہے، جس کے بعد کوکنگ آئل 605 روپے فی کلو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر کوکنگ آئل اور گھی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جون سے ہوگا۔
گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمان نے صوبائی کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔
حلف اٹھانے والوں میں حسن مرتضیٰ، خواجہ سلمان رفيق، رانا اقبال خان، ملک احمد خان اور سرداراويس خان لغاری شامل ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ مشير داخلہ پنجاب، خواجہ سلمان رفيق کووزيرصحت اور سرداراويس خان لغاری وزيربلديات ہوں گے۔
خیال رہے کہ حمزہ شہباز نے 30 اپریل کو پنجاب کے 21 ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا تھا تاہم ایک ماہ سے پنجاب کابینہ کا اعلان نہیں ہوسکا تھا۔
** وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان کی بڑی تعداد پارٹی قيادت کے قابو ميں نہيں ہے۔**
سماء سے خصوصی گفتگو میں خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی استعفے نہيں دينا چاہتے اور 2014 والا ڈراما کررہے ہيں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ يہ رينگتے ہوئے گھٹنوں کے بل اسمبلی واپس آئيں گے، اگر يہ تصديق نہيں کرائيں گے تو نااہل ہوجائيں گے۔ جب نوٹسز چلے گئے تو پھر استعفے بھی منظور کرلیے جائیں گے۔ اس لیے یہ انکاری ہیں کہ ہمیں نوٹسز نہیں ملے۔
دوسری جانب پی ی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہمارے استعفے پہلے ہی منظور ہوچکے ہیں، اسپیکر انہیں منظور کرکے الیکشن کمیشن کو بتاچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ہمارے ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنا چاہئے۔ دوبارہ تصدیقی عمل آئین کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے 131 ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کیلئے نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں، عمران خان سمیت تمام ارکان کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے۔
تصدیقی عمل پانچ دن میں مکمل کیا جائے گا اور روزانہ 30 ارکان کو انکے استعفوں کی تصدیق کیلئے بلایا جائے گا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی، یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹا، چینی، چاول اور دالوں پر سبسڈی مزید دو ہفتے برقرار رہے گی، گھی پر بھی 100 روپے فی کلو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمٹی کا اجلاس اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیرصدارت ہوا۔
وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دیدی، 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم حکومتی سطح پر جبکہ 10 لاکھ ٹن گندم بین الاقوامی ٹینڈر کے ذریعے خریدی جائے گی۔ ای سی سی نے صوبوں سے گندم کی ضروریات کا تخمینہ بھی طلب کرلیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے 2 منصوبوں کی تعمیر میں توسیع کی بھی منظوری دی گئی، منصوبوں میں توسیع کا مقصد چین سے 38 کروڑ 30 لاکھ ڈالر قرض یقینی بنانا ہے۔
ای سی سی نے پام آئل کی درآمد پر 2 فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کی منظوری بھی دیدی، پام آئل کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق وزارت توانائی کیلئے 62 ارب 27 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی، امن و امان کیلئے 10 کروڑ 78 لاکھ روپے کی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بی آئی ایس پی پروگرام کیلئے 24 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی ہے، وزیراعظم ریلیف پیکیج کے تحت 5 اشیاء پر سبسڈی میں توسیع کی منظوری بھی دی گئی۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آٹا، چینی، چاول اور دالوں پر سبسڈی مزید دو ہفتے برقرار رہے گی، یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی پر 100 روپے فی کلو سبسڈی دی جائے گی۔
ای سی سی اجلاس میں چین سے 2 لاکھ میٹرک ٹن یوریا درآمد کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔
ٹویٹر پیغام میں عمران خان کا کہنا تھا کہ نااہل امپورٹڈ حکومت نے روس کے ساتھ ہماری کوششوں کو جاری رکھنے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل 30 روپے مہنگا کر دیا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا کے اسٹریٹجک پارٹنر بھارت نے روس سے سستا تیل خرید لیا مگر امپورٹڈ حکومت نے روس سے 30 فیصد سستا تیل لینے کی کوشش نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ روس سے سستا تیل لینے کی وجہ سے بھارت کو تیل 25 روپے سستا پڑا، حکومت گرانے والے سازشی ٹولے کے اس اقدام سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔
ٹوئٹر پیغام میں عمران خان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت بیرونی آقاؤں کے آگے جھکی ہوئی ہے اور قوم نے اس کی قیمت چکانی شروع کر دی ہے۔
کراچی میں فائیو اسٹار ہوٹل کے چھت کا ایک حصہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں زخمی تین افراد کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
شہر کے گنجان آباد علاقے میں واقع ہوٹل میں تقریب کے دوران چھت کا اندرون حصہ گرِنے کے بعد ہوٹل انتظامیہ نے داخلی اور خارجی راستوں پر عام افراد کی آمد و رفت روک دی ہے۔
حادثے میں زخمی ہونے والی ایک خاتون نفیسہ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ایک نجی کمپنی کی جانب سے ہوٹل میں تقسیم انعامات کی تقریب جاری تھی جس میں سیکڑوں افراد شریک تھے کہ اس دوران چھت کا ایک حصہ گرگیا۔
پتوکی ميں دو ملزمان نے 15 سالہ لڑکی کو اس کے باپ کے سامنے ہی زيادتی کا نشانہ بنایا۔
چونياں بائی پاس کے قريب ڈاکوؤں نے باپ کو درخت سے باندھ کر پندرہ سال کی لڑکی کو زيادتی کا نشانہ بنا ڈالا، راہ گيروں کو آتا ديکھ کر دونوں ڈاکو موٹرسائيکل چھوڑکرفرار ہوگئے۔
متاثرہ لڑکی رات گئے والد اور پانچ سالہ بھائی کے ساتھ شادی ميں شرکت کے بعد گھر واپس آرہی تھی، طبی معائنے ميں لڑکی سے زيادتی کی تصديق ہوگئی۔
وزيراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز متاثرہ لڑکی کی داد رسی کے ليے اس کے گھر پہنچ کر کہا خود بھی بيٹی کا باپ ہوں ان کی حالت سمجھ سکتا ہوں۔
دوسری جانب پوليس نے ڈکيتی اور زيادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر مقررہ وقت پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے نہ پہچنے پر تحریک انصاف کے رہنماوں سے مذاکرات ممکن نہ ہوسکے۔
تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان اور فیصل چوہدری حکومتی ٹیم سے مذاکرات کےلیے کمشنرآفس پہنچے تھے مگر حکومتی ٹیم کے تاخیر سے پہچنے پر وہاں سے چلے گئے۔
دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہمیں10 بجے پہنچنے کا وقت دیا گیا تھا مگر راستوں کی بندش کے باعث تاخیر سے پہنچے۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہم چیف کمشنر سے رابطے میں تھے انہیں کہا تھا کہ ہم آرہے ہیں،مزید کہا پی ٹی آئی نے جو معاہدہ جے يو آئی سے کيا تھا وہی معاہدہ کرنے کو تیار ہیں۔
وفاقی وزیر مواصلات مولانااسعدمحمود کا کہنا تھا کہ حیران ہوں تحریک انصاف کے رہنماوں نے ہمارا 15،20منٹ بھی انتظارنہیں کیا ، مظاہرے ہم نے بھی کیے مگر کبھی کوئی دکان بند نہیں ہوئی۔
پیپلز بس سروس کی مزید 71 بسیں کراچی پہنچ گئیں، اس سے قبل چین سے 69 بسیں کراچی پہنچی تھیں۔
وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل میمن نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ پیپلز بس سروس کی مزید 71 بسیں چین سے کراچی پہنچ گئیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پیپلز بس سروس منصوبے کے تحت 71 بسیں کراچی کے مختلف روٹس پر چلیں گی جبکہ 69 بسیں پہلے ہی کراچی پہنچ چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ سے پیپلز بس سروس منصوبہ شروع ہوجائے گا۔
امریکا کے پاکستان میں نئے سفیر ڈونلڈ بلوم نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئے سفیر ڈونلڈ بلوم نے آج اسلام آباد میں اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ بلوم پاکستان میں امریکی سفارتی مشن کی جانب سے پاکستان اور امریکا کے لوگوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کیلئے جاری کوششوں کی قیادت اور پاکستان کے مستحکم، محفوظ اور خوشحال مستقبل کیلئے حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے سفیر ڈونلڈ بلوم اپنے ساتھ بیش بہا تجربہ اور مہارت لے کر پاکستان آئے ہیں، وہ اس سے قبل تیونس اور مقبوضہ بیت المقدس میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔
اسلام آباد پہنچنے پر ڈونلڈ بلوم کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان پہنچ کر خوشی محسوس کررہے ہیں اور وہ اس خوبصورت مُلک کو جاننے اور یہاں کے لوگوں اور ثقافت سے واقفیت حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر وہ دونوں مُلکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر کام جاری رکھیں گے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق چولستان کو خشک سالی سے نہيں بلکہ اکتاليس روز تک مسلسل ہيٹ ويو نے جھلسا کر رکھ ديا۔
محکمہ موسميات کی تيکنیکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بار چولستان میں بارشوں کے باوجود بدلتے موسم اور ماحولياتی تبديلی نے ہولناک اثرڈالا ہے۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں گرمی کی شديد لہريں مسلسل گيارہ مارچ سے انيس اپريل تک 41 روز چليں اور اس دوران ہيٹ ويوز نے پانی کے ذخائر، زراعت اورمويشيوں کوشديد نقصان پہنچايا۔
محکمہ موسميات کے مطابق ستائيس اپريل سے دو مئی تک چھ روز نسبتا کم شدت کی گرم ہوائيں چليں۔
اگرچہ چولستان ميں موسم سرما ميں خوب بارشيں ہوئيں مگرشديد ہيٹ ويوز نے مٹی سے نمی غائب کردی۔ تالابوں کا پانی بھاپ بنا کراڑاديا اور اب قحط کا واضح خطرہ سرپر منڈلا رہا ہے۔
چولستان کی جھلسی ہوئی فضا خبردار کررہی ہے کہ خشک سالی ہلاکت خيز ہوسکتی ہے سد باب کرنا ہوگا۔
By Mohana Ravindranath from NYT En español https://ift.tt/9EDBuXG