
By BY LENA WILSON from NYT Movies https://ift.tt/P4v20Ade3





کراچی پولیس کئی بار کوشش کرنے کے بعد مخبرانہ نظام تو بحال نہ کرسکی لیکن بیٹرز کا نظام کئی شکایت کے باوجود بھی بھرپور انداز میں پوری ایمانداری سے جاری ہے جس کے باعث شہر کی سڑکوں کی ایک لین پتھاروں کے لئے مخصوص ہوتی جارہی ہے۔
کراچی پولیس کے بیٹرز کی لياقت آباد مارکيٹ سےلاکھوں روپے ماہانہ وصولی جاری ہے، فی ٹھيلہ 150روپے وصول کيے جاتے ہيں۔ روزانہ کے 60ہزار اور ماہانہ 18 لاکھ تک وصول کئے جاتے ہيں۔
سماء کی ٹیم لیاقت آباد پہنچی اور خریدار بن کر وہاں ٹھیلے والوں سے پولیس کے بیٹر کے متعلق بات کرنا شروع کی کہ اتنے میں پولیس بیٹر اسی ٹھیلے پر وصولی کرنے آگیا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کس تھانے کی بیٹ جمع کررہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ٹھیلے پر لگی لائیٹوں اور بیٹری کے پیسے لینے آیا ہے۔
مذکورہ بندہ کارخانہ دکھانے پر رضامند تو ہوا مگر کارخانہ دکھانے کے بجائے موٹرسائیکل اسٹارٹ کی اور ایسی رفتار سے بھاگا کہ ہمیں لگا کہ کہیں یہ کسی اور چیز سے ٹکرا نہ جائے۔
ٹھیلے والوں کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد میں 400 ٹھیلے لگائے جاتے ہیں ہر ٹھیلے سے 150 روپے لئے جاتے ہیں جو رقم روزانہ 60ہزار بن جاتی ہے۔
By Victoria Kim from NYT World https://ift.tt/Cf3tZIK